ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / کنہیاکمارکی مستقل ضمانت کی درخواست پرسماعت سے ہائی کورٹ کا انکار

کنہیاکمارکی مستقل ضمانت کی درخواست پرسماعت سے ہائی کورٹ کا انکار

Wed, 17 Aug 2016 19:18:35    S.O. News Service

نچلی عدالت جانے کو کہا،اسٹوڈنٹ لیڈر کی یکم ستمبرکوختم ہورہی ہے 6ماہ کی عارضی ضمانت کی مدت 

نئی دہلی، 17؍اگست؍(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)دہلی ہائی کورٹ نے غداری کے کیس میں جے این یواسٹوڈنٹ یونین کے صدر کنہیا کمار کی باقاعدہ ضمانت کی عرضی پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا اور اس کے لیے انہیں نچلی عدالت کا رخ کرنے کا مشورہ دیا ۔جسٹس پی ایس تیجی نے جے این یو اسٹوڈنٹ یونین کے صدر کی باقاعدہ ضمانت کی درخواست کو مسترد کر دیا۔کنہیا اس سال 2 ؍مارچ سے عبوری ضمانت پر ہیں۔عدالت نے کہاکہ موجودہ درخواست کو مسترد کیا جاتا ہے اور درخواست گزار کے پاس سیشن عدالت جانے کا حق ہے۔غورطلب ہے کہ کنہیا نے ہائی کورٹ کا اس وجہ سے رخ کیا تھا کیونکہ اس کی 6 ماہ کی عبوری ضمانت کی مدت یکم ستمبر کو ختم ہونے والی ہے۔جے این یو اسٹوڈنٹ یونین کے صدر کا موقف رکھتے ہوئے سینئر وکیل ربیکا جان نے عدالت سے کہا کہ درخواست گزار مستقل ضمانت چاہتا ہے۔تاہم عدالت نے معاملے کی تفصیلی سماعت کے بغیر ہی کہا کہ وکیل باقاعدہ ضمانت کے لیے سیشن عدالت کے سامنے درخواست دے سکتے ہیں۔جان کے ساتھ وکیل سشیل بجاج اور ورندا گروور بھی تھے۔انہوں نے کہا کہ وہ آج ہی نچلی عدالت کے سامنے درخواست دیں گے۔کنہیا نے ضمانت کے اپنی درخواست میں کہا کہ اس نے جاری تحقیقات میں مداخلت نہیں کی ہے اور جب بھی اسے کہا گیا، وہ تفتیشی افسر کے سامنے پیش ہوئے ہیں ۔اس نے یہ بھی کہا کہ 2 ؍مارچ کو عبوری ضمانت دینے کے دوران ہائی کورٹ نے اس پر جو بھی شرائط عائد کی تھیں، اس نے ان کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ہائی کورٹ نے کنہیا کو 6 ماہ کی مشروط عبوری ضمانت دی تھی اور اسے کہا تھا کہ وہ ایسی کسی سرگرمی میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر حصہ نہیں لے گا، جسے ملک مخالف کہا جا سکتا ہے۔
عدالت نے کنہیا کی عبوری ضمانت منسوخ کروانے کے لیے دائر دو لوگوں کی درخواست کو 11؍اگست کو مسترد کر دیا تھا۔عدالت نے کہا تھا کہ اس کے سامنے ایسا کچھ بھی نہیں لایا گیا ہے، جو یہ ثابت کرتا ہو کہ طلبا لیڈر نے اپنی رہائی کے بعد کوئی ملک مخالف تقریر کی ہے۔اس سے پہلے عدالت نے کسی ایک رخ پر قائم نہ رہنے کے لیے پولیس کو پھٹکار لگائی تھی۔یہاں حوالہ اس بات کو لے کر تھا کہ پولیس کنہیا کی عبوری ضمانت کو منسوخ کرنا چاہتی ہے یا نہیں۔پولیس نے ہائی کورٹ میں کہا تھا کہ جے این یو اسٹوڈنٹ یونین کے صدر نے کشمیر میں فوج کے خلاف اشتعال انگیز تبصرہ کرکے ضمانت کے احکامات پر مکمل طرح عمل نہیں کیا ہے اور اس نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا ہے۔کنہیا کو 12؍فروری کو غداری کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔اس کی گرفتاری دراصل یونیورسٹی کیمپس میں 8 ؍فروری کو منعقد ہوئی اس تقریب کے سلسلے میں ہوئی تھی، جس میں مبینہ طور پر ملک مخالف نعرے لگائے گئے تھے۔کنہیا کی عبوری ضمانت کے لیے شرائط طے کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ وہ نچلی عدالت کی اجازت کے بغیر ملک نہیں چھوڑیں گے ۔طلبا نے کیمپس میں جس طرح سے نعرے بازی کی تھی اور جس طرح سے افضل گرو اور مقبول بھٹ کی تصاویر اور پوسٹر لے کر احتجاج کیا تھا ، عدالت نے اس پر بھی سخت اعتراض کیا ۔ہائی کورٹ کے جج نے کہا تھاکہ ہماری پارلیمنٹ پر حملے کے مجرم افضل گرو کی برسی پر نعرے لگانے والے طلبا کے ذہن میں موجود ملک مخالف خیالات کے پیچھے کی جس وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے ، جے این یو انتظامیہ کی طرف سے اس کا نہ صرف پتہ لگایا جانا چاہیے ، بلکہ اس تناظر میں اصلاحی اقدامات بھی اٹھائے جانے چاہیے تاکہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں ۔


Share: